امراضِ قلب سے بچاؤ کیلئے قدرتی خوراک

Advertisement

معروف مفکر بقراط کا قول ہے کہ ’’ بیماری کا علاج سب سے پہلے غذا سے کرنا چاہیے‘‘ اور گزشتہ پچاس برس سے ہونے والی تحقیقات نے بقراط کی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مناسب غذا کے استعمال سے متعدد مہلک امراض، جن میں دل کی بیماریاں بھی شامل ہیں سے یقینی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔

آج دنیا بھر میں دل کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے ہونے والا اضافہ انتہائی تشویشناک ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں سہل طرز زندگی اور ناقص خوراک شامل ہے۔ بلاشبہ دل کے امراض جان لیوا اور ان کا علاج بہت مہنگا ہے لیکن سادہ غذا، زیادہ پھل اور سبزیوں کے ذریعے کافی حد تک ان سے بچا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم آپ کو ایسی غذاؤں کے بارے میں بتائیں گے، جن کے استعمال سے امراض قلب لاحق ہونے کے خدشات میں واضح کمی آسکتی ہے۔

دہی:

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دہی کا استعمال مسوڑھوں کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے اور مسوڑھوں کی بیماری سے امراض قلب کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ جاپانی ماہرین نے ایک ہزار ایسے بالغ افراد پر تحقیق کی، جو دودھ یا اس سے بنی چیزوں مثلاً دہی وغیرہ کا زیادہ استعمال کرتے تھے۔ نتائج کے مطابق ایسے افراد میں مسوڑھوں کی بیماریاں نہ ہونے کے برابر تھیں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ دودھ اور دہی میں شامل اجزاء منہ میں جنم لینے والے دشمن بیکٹیریا کی نشوونما کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کشمش:

کشمش میں پایا جانے والا اینٹی ٹاکسائیڈ ایسے بیکٹیریا کو بڑھنے سے روکتا ہے، جو مسوڑھوں کے امراض کو جنم دیتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں مسوڑھوں کے بیماریوں میں مبتلا 50 فیصد لوگ امراض قلب کا شکار ہو جاتے ہیں، لہٰذا ایک بیماری کے خلاف جیت دوسری کو حاوی ہونے سے روک دیتی ہے۔

اناج:

متعدد تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ اناج کا استعمال کرنے والے لوگوں میں امراض قلب پیدا ہونے کے خدشات، ان لوگوں کی نسبت بہت کم ہوتے ہیں، جو اس کا استعمال نہیں کرتے۔ اناج میں اینٹی ٹاکسائیڈ، فیٹوس ٹروجنز اور فیٹوس ٹیرولز جیسے مادے ہوتے ہیں، جو امراض قلب سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ پھر اناج میں شامل ریشے کے بارے میں اکثر ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ امراض قلب کے خدشات کو کم کر دیتے ہیں۔

لوبیا:

لوبیا کا باقاعدہ استعمال آپ کے دل کی صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ نیوٹریشن جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پکائے ہوئے لوبیا کا روزانہ آدھا کپ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کئے رکھتا ہے۔

مچھلی:

ہفتہ میں ایک یا دو بار باقاعدگی سے مچھلی کھانے سے امراض قلب کے خدشات میں 30 فیصد تک کمی واقع ہو جاتی ہے۔ مچھلی میں پائے جانیوالے اومیگا تھری نامی پروٹین کے باعث خون کی روانی میں بہتری آتی ہے، جس سے نہ صرف امراض قلب بلکہ بلڈ پریشر کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ان غذاؤں کے علاوہ بادام، چاکلیٹ، ٹماٹر، سیب، بیری، انار، کیلا، مکئی کے بھنے ہوئے دانے(پوپ کارن) اور سبز چائے کے مناسب استعمال سے بھی امراض قلب سے بچا جا سکتا ہے۔