Showing posts with label Benefits. Show all posts

کلونجی کے فوائد, موت کے سوا ہر بیماری کیلئے شفا



نبی اکرم ؐ کاارشاد ہے ’’کلونجی استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری کیلئے شفا ہے۔‘‘


کلونجی ایک قسم کی گھاس کابیج ہے۔اس کا پودا سونف سے مشابہ، خودرو اور چالیس سینٹی میٹر بلند ہوتا ہے۔ پھول زردی مائل،بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا ہی بیج سمجھتے ہیں۔ کلونجی کے بیجوں کی شفائی تاثیر سات سال تک قائم رہتی ہے۔صحیح کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ دھبے لگ جاتے ہیں۔کلونجی کے بیج خوشبو دار اور ذائقے کے لئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں ۔ اچار اور چٹنی میں پڑے ہوئے چھوٹے چھوٹے تکونے سیاہ بیج کلونجی ہی کے ہوتے ہیں جو اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتے ہیں۔یہ سریع الاثر یعنی بہت جلد اثر کرنے والے ہوتے ہیں۔

اطبائے قدیم کلونجی اور اس کے بیجوں کے استعمال سے خوف واقف تھے۔ تاریخ میں رومی ان کا استعمال کرتے تھے۔قدیم یونانی اور عرب حکماء نے کلونجی کو روم ہی سے حاصل کیا اور پھر یہ پوری دنیا میں کاشت اور استعمال ہونے لگی ۔ کلونجی گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے۔کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ لوگ جن کو کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن، گیس یا ریاح سے بھر جانے اور اپھارے کی شکایت محسوس ہوتی ہے وہ کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کے بعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدے کی اصلاح بھی ہوگی۔

کلونجی کو سر کے کے ساتھ ملا کرکھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں ۔ سردیوں کے موسم میں جب تھوڑی سی سردی لگنے سے زکام ہونے لگتا ہے تو ایسی صورت میں کلونجی کو بھون کر باریک پیس لیں اور کپڑے کی پوٹلی بنا کر بار بار سونگھیں اس سے زکام دور ہو جاتا ہے۔اگر چھینکیں آرہی ہوں تو کلونجی بھون کر باریک پیس کر روغن زیتون میں ملا کر اس کے تین چار قطرے ناک میں ٹپکانے سے چھینکیں جاتی رہیں گی۔کلونجی پیشاب آور بھی ہے۔ اس کا جوشاندہ شہد میں ملا کر پینے سے گردے اور مثانے کی پتھری بھی خارج ہوجاتی ہے۔

اگر دانتوں میں ٹھنڈا پانی لگنے کی شکایت ہو تو کلونجی کو سرکے میں جوش دے کر کلیاں کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔چہرے کی رنگت میں نکھار اور جلد صاف کرنے کے لئے کلونجی کو باریک پیس کر گھی میں ملا کر چہرے پر لیپ کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ ا گر روغن زیتون میں ملا کراستعمال کیا جائے تو او ر زیادہ فائدہ ہوتا ہے ۔ آج کل نوجوان لڑکیوں میں کیل، دانوں اور مہاسوں کی شکایت عام ہیں۔ اس کے لئے کلونجی باریک پیس کر، سرکے میں ملا کر سونے سے پہلے چہرے پر لیپ کریں اور صبح دھولیا کریں۔ چند دنوں میں بڑے اچھے اثرات سامنے آئیں گے اس طرح لیپ کرنے سے نہ صرف چہرے کی رنگت صاف و شفاف ہوگی اور مہاسے ختم ہوں گی بلکہ جلد میں نکھار بھی آجائے گا۔

جلدی امراض میں کلونجی کا استعمال عام ہے۔ جلد پر زخم ہونے کی صورت میں کلونجی کو توے پر بھون کر روغن مہندی میں ملا کر لگانے سے نہ صرف زخم مندمل ہو جاتے ہیں بلکہ نشان دھبے بھی چلے جاتے ہیں۔ جن خواتین کو دودھ کم آنے کی شکایت ہو اور ان کا بچہ بھوکا رہ جاتا ہو وہ کلونجی کے چھ سات دانے صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل دودھ کے ساتھ استعمال کرلیا کریں ۔ اس سے ان کے دودھ کی مقدارمیں اضافہ ہو جائے گا البتہ حاملہ خواتین کو کلونجی کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔

وہ مشروب جو دنیا بھر کی سپر ماڈلز خوبصورت اور جوان نظر آنے کے لیے باقاعدگی سے استعمال کرتی ہیں





برمنگھم (نیوز ڈیسک) مغرب میں آج کل ایک دیسی خوراک نے انتہائی مقبولیت حاصل کرلی ہے اور ماہرین غذائیات بھی اسے جسم کے نشوونما اور ہڈیوں کو طاقتور بنانے کے لئے بہترین غذا قرار دے رہے ہیں۔


برطانیہ میں شہرت رکھنے والی مقبول سلیبرٹی شیف جیسمین اینڈ ملیسا ہیمسلی کی طرف سے ہڈیوں کا سوپ متعارف کروایا گیا ہے جو کہ بیف، مٹن یا چکن کی ہڈیوں کو 24 گھنٹوں تک پکا کر تیار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سوپ پروٹین کے بنیادی اجزاءامائنو ایسڈ سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں کیلشیم اور کولیجن بھی بکثرت پایا جاتا ہے اور اسے پینے والے ناصرف متعدد بیماریوں اور خصوصاً جوڑوں کے درد سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ ان کے ناخن، بال اور جلد بھی چمکدار اور صحت مند ہوجاتے ہیں۔ اس سوپ کے ایک پیالے میں صرف 86 ہرارے ہوتے ہیں اور یوں یہ بہترین غذا ہونے کے علاوہ موٹاپے سے نجات کا بھی بہترین نسخہ ہے۔


اسے بنانے کے لئے دو سے تین کلوگرام ہڈیاں، تقریباً دو پیاز کچھ گاجریں، تھوڑا سا سرکہ اور حسب ذائقہ دیگر مصالحہ جات پانی میں ڈال کر چوبیس گھنٹے کے لئے آگ پر رکھے جاتے ہیں اور یہ بہترین سوپ تیار ہوجاتا ہے۔ یہ دیسی سوپ مغرب کے مشہور ترین فنکاروں اور فلمی ستاروں میں بھی بہت مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔

If you think pollution doesn't affect you, then must watch it





اگر آپ پر سکون نیند کے خواہشمند ہیں تو ان پانچ عادات سے فوری چھٹکارا پا لیں

اگر آپ کو رات کو نیند نہیں آتی یا سوتے میں آنکھ کھل جاتی ہے تو آپ مندرجہ ذیل مشوروں پر عمل کریں تو آپ کو پرسکون نیند آئے گی۔

رات دیر سے کھانے سے پرہیز
اگر آپ رات کو دیر تک کھانا کھانے کے عادی ہیں تو فوراًاس عادت سے نجات حاصل کریں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہم جب رات کو دیر سے کھانا کھاتے ہیں تو معدے میں تیزابیت پیدا ہونے سے ہماری نیند اڑ جاتی ہے۔

رات دیر سے ورزش کرنا
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جس سے ہمارا جسم تیز کام کرنا شروع کردیتا ہے اور نیند کم ہونا شروع ہو جاتی ہے لہذا اگر آپ کو ورزش کی عادت ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے لیکن کوشش کریں کہ سورج ڈھلنے سے قبل ہی ورزش مکمل کر لی جائے۔

بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا
ایک وقت تھا لوگ ٹی وی کو بیڈ روم میں نہیں رکھا کرتے تھے جس سے ان کی نیند کبھی خراب نہیں ہوتی تھی لیکن جب سے ٹی وی بیڈ روم کا حصہ بنا ہے ہم لوگ نیند کی کمی کا شکار ہوگئے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب ہم ٹی وی دیکھتے ہیں تو ہمارا دماغ مکمل طور پر الرٹ ہوجاتا ہے اور اس طرح نیند ہماری آنکھوں سے کوسوں دور چلی جاتی ہے۔

رات کو دیر تک کام کرنا
کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ رات کو دیر تک دفتر رہتے ہیں یا دفتر کا کام گھر لا کر کرتے ہیں جس سے انہیں ذہنی تناﺅ ہوتا ہے اور یوں نیند کم ہوتی جاتی ہے۔آپ کوشش کریں کہ دفتر سے جلد گھر آئیں اور گھر میں دفتر کا کوئی کام نہ کریں۔ اگر آپ بھی ہر وقت ذہنی دباؤ کا شکا ر رہتے ہیں تو سکون حاصل کر نے کے لیے اس آسان ترین نسخے پرضرور عمل کریں

بہت زیادہ بولنا
اگر آپ شادی شدہ ہیں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دن بھر مصروف رہنے کے بعد اپنے جیون ساتھی سے بات کرنے کا موقع نہیں ملتا اور صرف رات کا وقت ایسا ہوتا ہے کہ آپ دونوں ایک دوسرے سے کھل کر بات کر پاتے ہیں۔یہ ایک اچھی بات ہے لیکن کوشش کریں کہ گھر جلدی آکر دن کی باتیں جلد کر لی جائیں اور رات کو جلد سویا جاسکے۔

مطالعے کی عادت کیسے ڈالی جائے؟

ہمارے ہاں بیشتر لوگ کتاب کی اہمیت اور افادیت تسلیم تو کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود خود کو کتاب پڑھنے پر آمادہ کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ 
موبائل فونز اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس نے بھی ہمارے معاشرے میں مطالعے کی روایت پر کاری ضرب لگائی ہے۔ کچھ لوگ یہ شکایت کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ کتاب پڑھنا انہیں بوریت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی صحت مند رجحان نہیں۔ لوگوں میں مطالعے کا فقدان ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔اس کااندازہ ہمیں روزمرہ زندگی میں لوگوں کی گفتگو کے موضوعات اور ان کی آراء کی سطحیت دیکھ کر ہوتا ہے۔ مطالعہ انسان کی فکری نشوونما کے لئے مستقل غذا کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ ہماری شخصیت میں نکھارکے ساتھ ساتھ ہمارے سماجی تعلقات میں بھی خوشگوار تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے۔ آج جب کتاب کلچر کے فروغ کی بات کی جاتی ہے تو اکثر یہ پوچھا جاتا ہے کہ مطالعے کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ سب سے پہلے ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مطالعہ ایک دلچسپ سرگرمی ہے، جو آپ سے بہت کم لے کر بدلے میںآپ کو بہت کچھ دیتی ہے۔ مطالعے کی عادت کو بہتر بنانے کے لئے یہ تراکیب بروئے کار لائی جا سکتی ہیں۔

وقت مقرر کیجئے:
مطالعے کی عادت ڈالنے کے لئے روز مختلف اوقات میں مختصر وقت کے لئے مثلاً دس منٹ کے لئے مطالعہ ضرور کریں۔ یہ وقت ناشتے، دوپہر کے کھانے کے بعد یا پھر رات کو سونے سے پہلے کا ہو سکتا ہے۔ اس طرح اگر آپ دن میں فارغ ملنے والے چھوٹے چھوٹے چھوٹے وقفو ں کو استعمال میں لائیں گے تو یہ ایک اچھی شروعات ہو سکتی ہے۔ شروع میں زیادہ دورانیہ اکتاہٹ کا سبب بن سکتا ہے ۔

ہمیشہ کتاب ساتھ رکھیے:
گھر سے نکلتے ہو ئے کتاب ساتھ رکھنا کبھی نہ بھولیے۔آپ کی گاڑی، دفتر،کام کی جگہ غرض کتاب ہر جگہ آپ کے ساتھ ہونی چاہیے۔ بہت مرتبہ آپ کو کسی سے ملاقات کیلئے یا کسی اور کام کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ آپ یہ وقت کتاب کے ساتھ گزار کر اپنے فارغ وقت کو مفید بنا سکتے ہیں۔ مطالعے کے شوقین لوگ اکثر ریلوے اسٹیشن، ایئر پورٹ وغیر ہ کی انتظار گاہوں میں کتابوں میں غرق نظر آتے ہیں۔

فہرست بنائیے:
اچھی کتابو ں کی فہرست مرتب کیجیے۔ مطالعے کے شوقین لوگوں سے اچھی کتابوں کے بارے میں پوچھیے۔ اپنی ذاتی ڈائری میں اہم اور قابل مطالعہ کتابوں کے نام درج کریں اور وقتاً فوقتاً اس فہرست میں اضافہ بھی کریں۔ پھر ان کتابوں کا باری باری مطالعہ کریں۔کتاب مکمل ہونے کے بعد اسے نشان زد کریں۔ خیال رہے کہ مطالعے کے دوران اہم جگہوں کے نوٹس لینا بہت مفید رہتا ہے۔ یہ بعد میں حوالے تلاش کرنے میں آپ کی مددکر سکتا ہے۔

پرسکون جگہ تلاش کیجیے:
مطالعے کی عادت پختہ کرنے کے لئے ضروری ہے کی کسی ایسی پر سکون جگہ بیٹھا جائے جہاں موسیقی یا دیگر آوازیں آپ کے ارتکاز کو متاثر نہ کر سکیں۔اس کے علاوہ بیٹھ کر پڑھنازیادہ بہتر ہے۔گھر میں کوئی ایک کمرہ یا پھر لائبریری کا ماحول اس حوالے سے بہترین ہو سکتا ہے۔

انٹر نیٹ اور ٹی وی کا محدود استعمال:
اس مشورے پر عمل آ ج کل یقیناً آسان نہیں لیکن اگر آپ مفید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو مطالعے کے مقررہ اوقات میں ٹی وی یا دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے گریز کرنا ہو گا۔ یہ چیزیں بار بار آپ کی توجہ کو متاثر کر کے مطالعے کا تسلسل توڑ دیتی ہیں۔

اپنے بچوں کی کتابیں بھی پڑھیے:
اگر آپ صاحب اولادہیں تو بچوں کے لئے اچھی کتابیں لائیے۔انھیں مطالعے کی عادت ڈالئے اور ساتھ ہی ساتھ خود بھی ان کتابوں کو پڑھئے۔اس طرح ایک طرف تو بچوں میں مطالعے کا ذوق پروان چڑھے گا جبکہ دوسری جانب آپ کی مطالعے کی عادت بھی مزید بہتر ہو گی۔ بچوں کے لئے لکھی گئی مشہور اور اچھی کتابوں کا انتخاب کیجیے۔ ان کے مطالعے کے لیے اخلاقی اور سبق آموز کہانیاں کی فہرست ضرور بنائیے۔

بُک شاپس کا رخ کریں:
کبھی آپ کوفرصت کے لمحات میسر ہوں تو کتب خانوں پر ضرور وقت گزاریے۔ وہاں آپ کی ملاقات مطالعے شوقین لوگوں سے بھی ہو سکتی ہے جو آپ کو اچھا مشورہ دیں گے۔اس کے علاوہ کتابیں الٹتے پلٹتے ہوئے شاید آپ کے ذوق کی دو چار کتابیں سامنے آ ہی جائیں۔

لائبریری ضرور جائیں:
ہمارے ہاں لائبریریاں اب سنسان پڑی رہتی ہیں۔ مطالعے کی عادت پر کام کرنے والے لوگوں کے لئے بہتر ہے کہ ہفتے میں ایک دن لائبریری کے لئے مقرر کریں۔ نئی پرانی کتابوں سے خود کو متعارف کرائیں۔ شروع میںوہاں جم کر بیٹھنا مشکل ہو گا مگر آہستہ آہستہ آپ کو لائبریری میں وقت گزارنے میں لطف آنے لگے گا۔

خوش دلی سے پڑھئے:
مطالعہ خوش دلی سے کیجیے۔ اچھے ستھرے ماحول کے ساتھ کچھ چائے، کافی یا پھر اپنے ذوق کی کوئی چیز بھی ساتھ رکھئے۔ صبح اور شام کے اوقات مطالعے کا بہت لطف دیتے ہیں۔اگر قدرتی ماحول مثلاً باغیچہ وغیرہ میسر ہو تو مطالعے کا عمل مزید دلچسپ ہو جاتا ہے۔

اپنابلاگ بنائیے:
آج کل انٹر نیٹ نے مفت بلاگ بنانے کی سہولت دے رکھی ہے۔آپ اپنا بلاگ بنائیے اور کتاب پڑھنے کے بعد اُس کے دلچسپ پہلووں کو اپنے بلاگ کی زینت بنائیے۔ دوستوں سے بھی اپنا بلاگ شیئر کیجیے۔کتاب کے متعلق پوچھے گئے سوالات اور دوسرے لوگوں کی اس کتاب کی بابت رائے غور سے سنیے۔آپ کے ارد گرد موجود لوگ اس قسم کی مزید کتابوں سے آپ کومتعارف کروائیں گے۔ یہ عمل آپ کی لکھنے کی صلاحیت میں بھی بہتری لا سکتا ہے۔کتاب سے متعلق اپنی رائے فیس بک وغیرہ پر بھی دوستوں سے شیئر کیجیے۔

مقصد بڑا رکھئے:
مطالعے کی عادت ڈالنے کے لئے آپ کو عزم کرنا ہو گا۔ مثلا ً اس سال میں پچاس کتابیں پڑھوں گا۔ ہر ماہ چار سے پانچ کتابیں مکمل کروں گا۔ پھر پوری دلچسپی اور لگن سے اپنے عزم کو پایہ تکمیل تک پہنچا ئیے۔ خیال رہے کہ اس مقصد کے لئے اپنی روز مرہ اہم سرگرمیوں کو متاثر کئے بغیر وقت نکالا جا سکتا ہے۔ بس ذرا سی توجہ کی ضرورت ہے۔

کوئی موضوع لیجیے:
آپ کے سامنے ادب، مذہب ، سائنس، سماجیات سے متعلق بے شمار موضوعات بکھرے پڑے ہیں۔ اپنی پسند کا موضوع منتخب کیجیے اور اس حوالے سے مطالعے کے شوقین افراد سے مشورہ کریں۔ اہم کتابوں کے نام نوٹ کر کے ان کی جستجو شروع کر دیجیے۔ مثلاًاگر آپ کی دلچسپی افسانوں میں ہے تو اب تک لکھے گئے اہم افسانوں کی فہرست بنا کر یکے بعد دیگرے ان کا مطالعہ کریں۔ چند ہی مہینوں میں آپ افسانوں پر مدلل اور مضبوط گفتگو کے قابل ہو جانے کے علاوہ خود میں ایک عجیب قسم کی خود اعتمادی محسوس کریں گے۔

تجزیہ کیجیے:
ہر کتاب کے مطالعے کی تکمیل پر اپنی معلومات کا تجزیہ کیجیے۔ یہ دیکھئے کہ اس کتاب نے کس انداز میں آپ کو متاثر کیا۔آپ کی معلومات میں کیا اضافہ کیا۔ یہ عمل آپ کو مزید پڑھنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ اور ہمت دے گا۔ یہ چند بنیادی نکتے ہیں جنہیں کام میں لا کر آپ زندگی بھر کے لئے ایک ایسی مسرت بخش دنیا سے روشناس ہوں گے جو آپ کو سکون، اعتماد اور بصیرت سے ہمکنار کرے گی۔

زیتون کا تیل کینسر کی بیماری کا بہترین علاج ہے، تحقیق

نیویارک: دل کی بیماریوں میں کارآمد اور انسانی جسم کو موٹاپے سے اسمارٹ کردینے والے زیتون کے تیل کی ایک نئی خوبی سامنے آگئی ہے جس میں اسے کینسر کی بیماری کے خاتمے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ اس سے کسی قسم کے سائیڈ ایفکٹس کا بھی کوئی خطرہ نہیں۔
امریکی یونیورسٹی پال پریسلن اور ہنٹر کالج کے پروفیسرز پال بریسلن، ڈیوڈ فوسٹر اور اولیکا لی جینڈر نے تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ زیتون کے تیل میں پایا جانے والا عنصر ’اولیوکینتھل‘ تیزی سے منتخب کردہ کینسر سیل کو ’لی سوسو مال میمبرین پرمییبی لائیزینش‘ (ایل ایم پی) پروسیس کے ذریعے 30 منٹ میں مار دیتا ہے جب کہ اس سے کوئی سائیڈ ایفکٹس بھی نمودار نہیں ہوتے۔

سائنس دانوں نے زیتون کے تیل کے اس حیران کن فائدے کو جاننے کے لیے تیل میں موجود اینٹی آکسی ڈینٹ عنصر اولیو کینتھل کو زندہ کینسر سیل پر استعمال کیا جس سے کینسر سیل موت کا شکار ہوگئے بالکل اسی طرح جس طرح کیمو تھراپی کو کینسر سیل مارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کے ممبر لی جینڈر کاکہنا ہے کہ اولیوکینتھل خلوی عنصر لی سوس میس کا سیل کے اندر پھٹنے کا باعث بنتا ہے اور سیل میں موجود انزائم کینسر سیل کی موت کا باعث بنتا ہے بلکہ اسے سیل کی خود کشی کہا جا سکتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ زیتون کے تیل سے کینسر کے خلاف مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ادھر کسی نے زیتون کا تیل پیا اور کینسر سیل مرنا شروع ہوگئے۔ محقین کا کہنا ہےکہ یہ بات تو واضح ہوگئی کہ زیتون کے تیل میں موجود اولیو کینتھل کینسر دشمن ہے جب کہ دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ کیمو تھراپی کی طرح اس کے منفی اثرات جسم پر ظاہر نہیں ہوتے۔ کیمو تھراپی میں مریض سستی، متلی، بالوں کا گرنا اور بھوک کا ختم ہوجانا جیسی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے لیکن زیتون کے تیل سے اس طرح کا کوئی بھی سائیڈ ایفکٹس سامنے نہیں آیا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تمام زیتون کے تیل ایک جیسی خصوصیات نہیں رکھتے تاہم ایکسٹرا ورجین زیتون کے تیل میں بڑی مقدار میں اینٹی آکسی ڈینٹ عنصر موجود ہوتا ہے کیوں کہ اسے فلٹریشن کے عمل سے نہیں گزارا جاتا جب کہ صرف ورجین آئل چونکہ صفائی اور فلٹریشن کے عمل سے گزرتا ہے اس لیے اس میں اینٹی آکسی ڈینٹ عناصر انتہائی کم ہو جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ زیتون کے درخت 3000 ہزار سال تک زندہ رہ سکتا ہے جبکہ اس کی کاشت کا آغاز 6000 ہزار سال قبل ہوا تھا اور جب سے زیتون کا تیل بحیرہ روم کے لوگ کی غذاؤں کا حصہ ہے۔

امراضِ قلب سے بچاؤ کیلئے قدرتی خوراک


معروف مفکر بقراط کا قول ہے کہ ’’ بیماری کا علاج سب سے پہلے غذا سے کرنا چاہیے‘‘ اور گزشتہ پچاس برس سے ہونے والی تحقیقات نے بقراط کی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مناسب غذا کے استعمال سے متعدد مہلک امراض، جن میں دل کی بیماریاں بھی شامل ہیں سے یقینی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔

آج دنیا بھر میں دل کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے ہونے والا اضافہ انتہائی تشویشناک ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں سہل طرز زندگی اور ناقص خوراک شامل ہے۔ بلاشبہ دل کے امراض جان لیوا اور ان کا علاج بہت مہنگا ہے لیکن سادہ غذا، زیادہ پھل اور سبزیوں کے ذریعے کافی حد تک ان سے بچا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم آپ کو ایسی غذاؤں کے بارے میں بتائیں گے، جن کے استعمال سے امراض قلب لاحق ہونے کے خدشات میں واضح کمی آسکتی ہے۔

دہی:

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دہی کا استعمال مسوڑھوں کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے اور مسوڑھوں کی بیماری سے امراض قلب کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ جاپانی ماہرین نے ایک ہزار ایسے بالغ افراد پر تحقیق کی، جو دودھ یا اس سے بنی چیزوں مثلاً دہی وغیرہ کا زیادہ استعمال کرتے تھے۔ نتائج کے مطابق ایسے افراد میں مسوڑھوں کی بیماریاں نہ ہونے کے برابر تھیں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ دودھ اور دہی میں شامل اجزاء منہ میں جنم لینے والے دشمن بیکٹیریا کی نشوونما کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کشمش:

کشمش میں پایا جانے والا اینٹی ٹاکسائیڈ ایسے بیکٹیریا کو بڑھنے سے روکتا ہے، جو مسوڑھوں کے امراض کو جنم دیتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں مسوڑھوں کے بیماریوں میں مبتلا 50 فیصد لوگ امراض قلب کا شکار ہو جاتے ہیں، لہٰذا ایک بیماری کے خلاف جیت دوسری کو حاوی ہونے سے روک دیتی ہے۔

اناج:

متعدد تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ اناج کا استعمال کرنے والے لوگوں میں امراض قلب پیدا ہونے کے خدشات، ان لوگوں کی نسبت بہت کم ہوتے ہیں، جو اس کا استعمال نہیں کرتے۔ اناج میں اینٹی ٹاکسائیڈ، فیٹوس ٹروجنز اور فیٹوس ٹیرولز جیسے مادے ہوتے ہیں، جو امراض قلب سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ پھر اناج میں شامل ریشے کے بارے میں اکثر ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ امراض قلب کے خدشات کو کم کر دیتے ہیں۔

لوبیا:

لوبیا کا باقاعدہ استعمال آپ کے دل کی صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ نیوٹریشن جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پکائے ہوئے لوبیا کا روزانہ آدھا کپ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کئے رکھتا ہے۔

مچھلی:

ہفتہ میں ایک یا دو بار باقاعدگی سے مچھلی کھانے سے امراض قلب کے خدشات میں 30 فیصد تک کمی واقع ہو جاتی ہے۔ مچھلی میں پائے جانیوالے اومیگا تھری نامی پروٹین کے باعث خون کی روانی میں بہتری آتی ہے، جس سے نہ صرف امراض قلب بلکہ بلڈ پریشر کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ان غذاؤں کے علاوہ بادام، چاکلیٹ، ٹماٹر، سیب، بیری، انار، کیلا، مکئی کے بھنے ہوئے دانے(پوپ کارن) اور سبز چائے کے مناسب استعمال سے بھی امراض قلب سے بچا جا سکتا ہے۔

خربوزہ، مہلک امراض کے لئے اکسیر

موسم گرما کا لذیز اور فرحت بخش پھل خربوزہ نہ صرف انسانی جسم کی نشوونما کے لئے ازحد ضروری ہے بلکہ یہ مختلف بیماریوں سے حفاظت میں بھی ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ پھل 95 فیصد تک مختلف وٹامنز اور منرلز کا مجموعہ ہے۔ خربوزے میں قدرتی طور پر وٹامن اے، بی، سی کے علاوہ فاسفورس اور کیلشیم جیسے پروٹین بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایک خربوزہ میں 15 ایم جی کیلیشیم، 25 ایم جی فاسفورس، 0.5 ایم جی آئرن، 34 ایم جی وٹامن سی، 640 ایم جی وٹامن اے اور 0.03 ایم جی وٹامن بی ون ہوتا ہے۔ یہاں ہم آپ کو اس کے 6 بڑے فوائد کے بارے میں آگاہی دیں گے۔

معدے کی تیزابیت کا خاتمہ:
خربوزہ میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو نظام انہضام کے لئے نہایت مفید ہے۔ اس میں شامل منرلز معدے کی تیزابیت کے خاتمہ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

کینسر کا علاج:
خربوزے میں شامل کروٹینائڈ نامی پروٹین کینسر سے بچائو کی قدرتی دوائی ہے اور پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات کو بہت حد تک کم کر دیتا ہے۔ خربوزہ کینسر کے ان بیجوں کو ہی مار دیتا ہے، جو بعدازاں انسانی جسم پر مضبوطی سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

ہارٹ اٹیک سے بچاؤ:
خربوزہ میں شامل ایک خاص جزو (اڈینوسائن) خون کے خلیوں کو جمنے نہیں دیتا اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ چیز بعد ازاں ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ خربوزہ جسم میں خون کی گردش کو معمول پر رکھتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک یا سٹروک جیسی بیماریوں کے امکانات نہایت کم ہو جاتے ہیں۔
جلدی صحت:
جلدی صحت کی برقراری اور بہتری کے لئے خربوزہ نہایت عمدہ غذا ہے۔ خربوزہ میں شامل پروٹین جلد کو نہ صرف خوبصورت و ملائم بناتے ہیں بلکہ جلدی بیماریوں سے حفاظت بھی کرتے ہیں۔

گردے کے امراض میں مفید:
خربوزہ کا استعمال گردوں کو صاف کرتا ہے اور گردے میں جمی ہوئی کثافتوں کو بھی دور کر دیتا ہے۔ اور اگر خربوزہ کو لیموں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو یہ یورک ایسڈ جیسی تکلیف میں بھی آرام پہنچاتا ہے۔

سینے کی جلن:
90 فیصد پانی پر مشتمل یہ پھل سینے کی جلن میں بھی اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

کیلے کے بارے میں حیرت انگیز حقائق

کیلا ایک مشہور و معروف پھل ہے اور اپنے مخصوص ذائقے اور صحت مندانہ فوائد کے لئے جانا جاتا ہے۔بہت سے اس کا استعمال اس وجہ سے کرتے ہیںکہ ایک تو یہ سستا پھل ہے دوسرے غذائی طور پر اس میں کئی مزلزپائے جاتے ہیں اور ہم میں سے کچھ اس کے بارے میں غلط حقائق کے پھیلاﺅ کی وجہ سے اسے کم استعمال کرتے ہیں۔کیلا دیگر پھلوں کے مقابلے میں سارا سال ایک ہی قیمت پر مارکیٹ دستیاب ہوتا ہے۔اس آرٹیکل میں میں کیلے میں موجود کیلوری کی مقدار کے حوالے سے گفتگو کرنا چاہوں گا۔اگر آپ کیلے کا استعمال نہیں کرتے تو آپ ایک انتہائی مفید پھل سے استفادہ نہیں کرتے جو عام زندگی میں آپ کو صحت مند اور طاقتور رکھتا ہے۔

کیلے میں موجود کیلوریز
کاربوہائیڈریٹس27.2گرام
کیلشیم17ملی گرام
میگنیشم14ملی گرام
فاسفورس36ملی گرام
سوڈیم36ملی گرام
پوٹاشیم88ملی گرام
زنک0.15ملی گرام
آئرن0.36
ڈائٹری فائبرز3.5
فیٹ6.3
وٹامن بی6 0.8
وٹامن سی7
پروٹین1.2
کیروٹین78

٭ کیلے کو بھرپور غذا ہونے کے ناطے ان تمام لوگوں کو دیا جانا چاہیے جو وزن کم کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہوں اور جو بخار اور بیماری کی وجہ سے غذائی قلت کا شکار ہوں۔
٭ پوٹاشیم کے بہترین ذریعہ کے طور پر کیلا ہڈیوں کی صحت کے لئے انتہائی مفید ہے اور ہائی بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
٭ چونکہ کیلے میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ ہوتے ہیں لہٰذا ون کم کرنے والے حضرات اس کا استعمال قلیل مقدار میں کریں۔
٭ وٹامن بی 6کے استعمال سے دل کے امراض اور بعض اقسام کے کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے جبکہ وٹامن سی جلد کے لئے مفید ہے۔
٭ کیلے میں حل پذیر فائبرز ہوتے ہیں جو قبض اور نظام ہضم کی بیماریوں میں مفید ہوتے ہیں۔
٭ کیلے میں موجود کیرولین موذی امراض کے لاحق ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔
٭ کیلا چونکہ فطری طور تیزابیت کم کرنے والے اثرات رکھتاہے ، لہٰذا اسے معدے کے السر اور دیگر آنتوں کی بیماریوں میں بطور مددگار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
٭ زیادہ شوگر کی وجہ سے زیابیطس کے مریضوں میں کیلے کا استعمال ممنوع ہے۔
٭ جب دست یا اسہال یا پیشاب کی نالیوں کی بیماری لاحق ہو جائے تو کیلا پوٹاشیم کی کمی کو پورا کرتا ہے۔

نیند کی کمی نوجوانوں میں ذیا بیطس کا سبب بن سکتی ہے

امریکی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ مناسب نیند پوری نہ کرنے والے افراد میں ذیا بیطس کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
امریکا کی شکاگو یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن ایسرا تسالی کی زیر نگرانی کی جانے والی تحقیق کے دوران ماہرین نے 18 سے 30 برس کی عمر کے 19 افراد کے روز مرہ معمولات کا تجزیہ کیا۔ ماہرین نے دیکھا کہ مسلسل 3 روز صرف 4 گھنٹے کی نیند لینے سے ان کے خون میں فیٹی ایسڈز کی مقدار میں بتدریج اضافہ اور انسولین کی صلاحیت کم ہوتی گئی۔

ماہرہن کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی خون میں فیٹی ایسڈز کی سطح کو بڑھا دیتی ہے۔ اس سے میٹابولزم کا عمل متاثر ہوتا ہے جس کے باعث خون میں انسولین کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے جوکہ خون میں شوگر کی مقدار کنٹرول کرتی ہے۔

انسانی دماغ کی بھول بھلیاں, آپ کا دماغ کس طرح کام کرتا ہے؟


کیا کبھی آپ نے کبھی خود کو سوچنے کی کوشش کی ہے کہ آپ کا دماغ کس طرح کام کرتا ہے کیا کبھی نہیں سوچا؟ درحقیقت اپنے دماغ کو سوچ سے خالی کرنا ممکن ہی نہیں مگر اپنے دماغ کے بارے میں جاننا ضرور ممکن ہے۔

موجودہ دور کی سائنس میں ایسی ایسی باتیں سامنے آرہی ہیں جو کسی کے لیے حیرت انگیز سے زیادہ کسی طلسم ہوشربا سے کم نہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جادوئی دنیا کہیں دور نہیں بلکہ ہمارے ہی اندر پوشیدہ ہوتی ہے۔ جیسے ماضی زندگی کا وہ حصہ ہوتا ہے جو جتنا بھی تکلیف دہ گزرا ہو درحقیقت وہ مستقبل میں خوشگوار یاد بن کر ہی ذہن میں ابھرتا ہے کیونکہ ہمارا دماغ تکلیف دہ یادوں کو یاداشت سے نکال کر انہیں خوشگوار کردیتا ہے چاہے اس کے لیے جھوٹی باتیں ہی کیوں نہ بھردیں۔

تو ماضی، ذہن، یادداشت اور ایسے ہی کچھ انوکھے دماغی ٹوئیسٹ کے بارے میں جانیے جو ہماری زندگیوں کا حصہ تو ہوتے ہیں مگر ہم ان کا خیال نہیں کرتے۔

کس عمر کی یادیں رہتی ہیں یاد؟

کیا آپ کو اپنی ایک سال کی عمر کی باتیں یاد ہیں؟ نہیں ناں مگر سائنس کا تو ماننا ہے کہ ہرشخص یہ یادیں دہرا سکتا ہے، ہوسکتا ہے کہ آپ کو حیرت ہو مگر یہ دعویٰ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔
نیویارک کی کارنیل یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ماضی کا یہ نظریہ غلط ہے کہ کسی بھی انسان کو ساڑھے 3 سال کی عمر سے پہلے کی باتیں یاد نہیں رہتیں، درحقیقت ہم تو 9 ماہ کی عمر تک کی باتیں یاد کرسکتے ہیں۔ تاہم تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اپنی اولین چند ماہ کی یادیں بھی لڑکپن تک ہی ذہن میں رہتی ہیں جو وقت یا عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ذہن سے اتر جاتی ہیں۔
دلچپسپ ترین امر یہ سامنے آیا ہے کہ اس معاملے میں بھی لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ بہتر ہیں جو اپنے بھائیوں کے مقابلے میں زیادہ چیزیں درست طور پر یاد رکھنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔
محققین کے مطابق اکثر بالغ افراد بھی اپنی اتنی کم عمری کی باتیں یاد کرلیتے ہیں جن کو سن کر حیرت ہوتی ہے تاہم یہ سب ہمارے دماغ کا کمال ہے جس پر اگر زور ڈالا جائے تو کوئی بھی انسان اپنی 9 ماہ کی عمر تک کی باتیں یاد کرسکتا ہے۔

ماضی کو دوہرانا ہوتا ہے فائدہ مند

سائنس کا ماننا ہے کہ اچھی چیزوں کی یاد درحقیقت آپ کیلئے بہت فائدہ مند ہے۔ جریدے جرنل میموری میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اگر ماضی کی اچھی چیزوں کو یاد رکھا جائے تو یہ انسانی شخصیت کیلئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
تحقیق کے بقول لوگ ماضی کے برے تجربات کی بجائے مثبت واقعات پر زیادہ توجہ دیں تو یہ آپ کی صحت کیلئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ مثبت یادیں برے واقعات کے برعکس زیادہ واضح طور پر انسانی یاداشت میں محفوظ ہوتی ہیں۔
تحقیق میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ماضی کے خراب واقعات کو بھی اچھی نظر سے یاد کیا جائے تو وہ بھی فائدہ مند ہی ثابت ہوتے ہیں۔

خواتین نہیں مرد ہوتے ہیں زیادہ بڑے بھلکڑ

آپ مانیں یا نہ مانیں مگر مرد حضرات خواتین کے مقابلے میں زیادہ بھلکڑ ہوتے ہیں اور وہ اکثر عام تو کیا خاص باتیں بھی بھولنے کے عادی ہوتے ہیں۔ یہ انکشاف ناروے میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔
ناوریجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تحقیق کے بقول عمر چاہے 30 ہو یا 60 سال مرد ہمیشہ ہی خواتین کے مقابلے میں زیادہ بھلکڑ ثابت ہوتے ہیں، اس تحقیق کے نتائج نے محققین کو بھی حیران کرکے رکھ دیا۔
محقق پروفیسر جوسٹین ہولمین کا کہنا تھا کہ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مرد زیادہ باتیں بھولتے ہیں اور آج تک یہ بات منظرعام پر بھی نہیں لائی گئی۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ مردوں کو اکثر نام اور تاریخیں یاد رکھنے میں بھی مشکل ہوتی ہے اس کے مقابلے میں خواتین اس معاملے میں کافی تیز ہیں۔

مخصوص خوشبوئیں جو بنائیں یاداشت بہتر

کیا کبھی آپ کو ایسا تجربہ ہوا کہ کوئی خاص مہک سونگھ کر اچانک کوئی مخصوص شخص یا منظر ذہن پر ابھر آیا ہو؟ اگر ہاں تو یہ سب ہماری دماغی لہروں کا کمال ہے۔ یہ دعویٰ ناروے میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا تھا۔
تحقیق کے مطابق کچھ خاص خوشبوئیں ہمارے ذہن میں ایسے رچ بس جاتی ہے کہ وہ لوگوں کی پرانی یادوں کو اجاگر کردیتی ہیں۔ کاول انسٹیٹوٹ فار سسٹمز نیوروسائنسز کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کچھ خوشبوﺅں سے ایسی دماغی لہریں پیدا ہوتی ہیں جن سے ذہن میں چھپی یادیں ابھر آتی ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغی سگنل ہمارے ناک سے دماغ میں یاداشت کے حصے تک منتقل ہوتے ہیں اور وہاں سے اس جگہ، شخص یا کسی واقعے کی یاد کو اجاگر کردیتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دماغ اس خاص خوشبو کو یاداشت سے کنیکٹ کرتا ہے اور ایسا اندرونی نقشہ ذہن میں ابھرتا ہے جو اس خوشبو سے وابستہ یاد کو اجاگر کرتا ہے۔

تصاویر لینے کی عادت کردیتی ہے یادداشت خراب

اپنی زندگی کے ہر لمحے کی تصاویر لینے کی عادت لوگوں کے اندر اہم لمحات کو یاد کرنے کی صلاحیت کو ختم کرکے رکھ دیتی ہے۔ یہ دعویٰ ایک امریکی تحقیق میں سامنے آیا۔
فائرفیلڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہر وقت کیمرے کی آنکھ سے اہم لمحات کو دیکھنے کی عادت یاداشت میں اس منظر کی جزئیات کو سکیڑ کر رکھ دیتی ہے۔ محقق لنڈا ہینکل کے مطابق تصاویر لینے کی عادت یاداشت پر اثر انداز ہوتی ہے اور لوگ اپنی زندگی کے اہم لمحات کی بہت کم باتیں ہی یاد رکھ پاتے ہیں۔ تحقیق کے بقول تصاویر لیتے ہوئے لوگوں کی توجہ صرف ایک خاص چیز یا منظر پر مرکوز ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کی یاداشت زوم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہے۔

سرچ انجنز کردیں غائب دماغ

انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ہمیں ہر سوال تک فوری رسائی کی سہولت دیدی ہے مگر اس چیز نے نوجوانوں کو غائب دماغ بنانا شروع کردیا ہے۔
امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اب تو صورتحال یہ ہے کہ لوگ انٹرنیٹ سرچ انجنز کو ایک علیحدہ ٹول سمجھنے کی بجائے اپنی ذہانت کا ہی حصہ سمجھنے لگے ہیں اور اسی وجہ سے اکثر منہ کی کھاتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گوگل یا دیگر سرچ انجنز پر انحصار کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم ان حقائق کو بھی یاد نہیں رکھ پاتے جو ہم آن لائن جان چکے ہوتے ہیں۔

اب یاداشت سے نکلے اور اپنے دماغ کے بارے میں کچھ حیرت انگیز باتیں جانیے جو کسی کے بھی ہوش اڑا دینے کے لیے کافی ہے۔

 دکھی گانے کرتے ہیں مزاج خوشگوار

ایک سائنسی تحقیق کے مطابق المیہ یا درد بھرے گیت سننے سے مزاج پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ٹوکیو یونیورسٹی کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طرح کے گانوں سے لوگوں کو وہ رومانوی فلمیں یا اپنی زندگی کے خاص رومانس بھرے مواقع یاد آتے ہیں اور یہ چیز لوگوں کو خوش مزاج بنا دیتی ہے۔ تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ لوگ دکھی گانے سننا زیادہ پسند کرتے ہیں اور ایسے ہی گیت چلبلے یا شوخ گانوں کے مقابلے میں زیادہ مقبولیت حاصل کرتے ہیں۔

دماغ اندازوں سے بھی زیادہ تیز

بظاہر تو ایک سیکنڈ میں بجلی کی طرح نظروں سے گزرنے والی درجن بھر تصاویر کو شناخت کرنا ناممکن لگتا ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ انسانی دماغ یہ کام ریکارڈ بریکنگ رفتار سے کرسکتا ہے۔ میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ انسانی دماغ آنکھوں کو نظر آنے والی تصاویر کی شناخت محض 13 ملی سیکنڈ میں کرلیتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ انسانی دماغ کی اس قدر تیز رفتاری ریکارڈ کی گئی ہے اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ یہ رفتار اس سے 8 گنا سست ہے۔
محقق میری پوٹر کے مطابق ہمارا دماغ پورا دن یہی کام کرتا ہے اور سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے کہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آنکھوں کا کام صرف دماغ تک معلومات ہی پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ وہ دماغ کو تیز رفتاری سے سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

مردوں کے دماغ میں ہر وقت سونا، کھانا اور رومانوی تعلق

مرد حضرات کے دماغوں میں ہر وقت سونے، کھانے اور رومانوی تعلقات کے خیالات ہی گھومتے رہتے ہیں۔ اوہائیو یونیورسٹی کی سروے نما تحقیق کا دعویٰ ہے کہ مرد حضرات اوسطاً دن بھر میں 34 بار سے زائد رومانوی تعلق کے بارے میں خیالی پلاﺅ بنانا پسند کرتے ہیں۔ یعنی ہر 28 منٹ بعد انہیں اپنی بیوی یا محبوبہ کی یاد ستانے لگتی ہے۔
اس کے مقابلے میں خواتین اس معاملے سے کافی دور ہیں ان کا اوسط 51 منٹ کا بنتا ہے۔ اوہائیو یونیورسٹی کی تحقیق کے بقول مرد حضرات دن بھر میں کم از کم 25 بار کھانے اور 29 بار سونے کے بارے میں سوچتے ہیں، جبکہ خواتین ہر 62 منٹ بعد کھانے اور ہر 72 منٹ بعد سونے کے بارے میں سوچتی ہیں۔

کافی, دل کے دورے سے بچاﺅ کا آسان نسخہ


دل کا دورہ دنیا بھر میں اموات کی بڑی طبی وجوہات میں سے ایک ہے تاہم اس جان لیوا مرض سے بچاﺅ کا نسخہ بہت آسان اور آپ کے ہاتھوں میں ہے اور وہ ہے گرما گرم کافی کا استعمال۔ ایسا دعویٰ جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

سیول کے کانگ بک سام سنگ ہسپتال کی تحقیق کے مطابق دن بھر میں تین سے پانچ کپ کافی کا استعمال شریانوں میں خون کے جمنے کا خطرہ کم کردیتا ہے جو کہ دل کے دورے کا باعث بنتا ہے۔

محققین کے مطابق معتدل مقدار میں کافی کا استعمال شریانوں کے اندر نقصان دہ کیلشیئم کا امکان کردیتا ہے جو کہ امراض قلب کا عندیہ ہوتا ہے۔ اس کیلشیم کی مقدار بڑھنے سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہوجاتی ہیں اور لوتھڑے بننے لگتے ہیں جس سے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پچیس ہزار مرد و خواتین پر ہونے والی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ روزانہ دو کپ کافی کے استعمال سے اس کیلشیم کی مقدار بڑھنے کا خطرہ اوسطاً 13.4 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ تین اور پانچ کپوں میں یہ اوسط مزید بڑھ جاتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ کافی کا استعمال امراض قلب کے اثرات کو کم کردیتا ہے تاہم اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ دل کی شریانوں کے امراض پر اس کے بائیولوجیکل اثرات کا تعین کیا جاسکے۔

ٹوتھ پیسٹ کے دس انوکھے استعمال جو کردیں دنگ


دانتوں کی صفائی اور سفیدی کے لیے ٹوتھ پیسٹ کا استعمال تو بہت عام ہے جو انہیں مضبوط بھی بناتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ پیسٹ آپ کے چہرے کو دانوں سے نجات بھی دلا سکتا ہے؟

اگرچہ سننے میں حیرت انگیز لگے مگر واقعی ٹوتھ پیسٹ بہت کچھ ایسا بھی کرسکتا ہے جس کا تصور بھی کبھی آپ نے نہیں کیا ہوگا اور دانتوں سے ہٹ کر بھی کافی چیزیں صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹوتھ پیسٹ کے ایسے ہی چند انوکھے طریقہ استعمال ہوسکتا ہے آپ کو حیران کرکے رکھ دیں۔

ہاتھوں سے بو سے نجات دلاتا ہے

پیاز یا لہسن کو کاٹنے کے بعد ہاتھوں میں بو دھونے کے بعد بھی باقی رہتی ہے اور عام صابن بھی اس سے نجات دلانے میں ناکام رہتے ہیں مگر تھوڑی سی مقدار میں ٹوتھ پیسٹ کو ہتھیلی پر مل لینا اس بو سے مختصر وقت میں موثر طریقے سے جان چھڑانے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

زیورات کی صفائی

سونے یا چاندی کے زیورات کو کسی سنار کے پاس لے جا کر بہت زیادہ پیسہ دیکر ان کی صفائی کروانے سے بہتر ہے کہ آپ ٹوتھ پیسٹ کو آزما کر دیکھیں، بس ٹوتھ پیسٹ کی تھوڑی سی مقدار زیورات کے اوپر لگا کر انہیں اپنی انگلیوں کی پوروں سے رگڑیں اور پھر اسے کپڑے کے کسی ٹکڑے سے صاف کردیں۔

دیوار سے رنگوں کے داغ ہٹائیں

تمام بچوں کو دیواروں پر پینٹ کا بہت زیادہ شوق ہوتا ہے جو ماﺅں کے لیے گھروں کی صفائی کے دوران بہت بڑا چیلنج بھی بن جاتا ہے اور اس سلسلے میں بھی ٹوتھ پیسٹ زبردست کمال دکھاتا ہے بس ٹوتھ پیسٹ کو ان پر رگڑ کر کپڑے سے داغ والی جگہ صاف کردیں۔

اسپورٹس گلاسز کی صفائی

اسپورٹس گلاسز کا بہت زیادہ دیر تک استعمال ان کے شیشوں کو دھندلا دیتا ہے اور وہ گندے بھی ہوجاتے ہیں جن کی صفائی پانی کے بس کا کام نہیں ہوتا تاہم یہاں آپ ٹوتھ پیسٹ کی ہلکی سی تہہ کو استعمال کرسکتے ہیں، بس اسے گلاسز پر رگڑیں اور گیلے کپڑے سے پیسٹ کو صاف کردیں آپ کے گلاسز بھی بالکل نئے جیسے ہوجائیں گے۔

چہرے کے دانوں یا مہاسوں سے نجات

اگرچہ یہ سننے میں حیران کن لگے مگر حقیقت یہی ہے کہ ٹوتھ پیسٹ کا استعمال چہرے پر ابھر آنے والے دانوں اور مہاسوں سے جلد نجات دلانے کا موثر طریقہ ہے، بس تھوڑی سی مقدار میں ٹوتھ پیسٹ مہاسوں سے متاثرہ حصے پر لگائیں اور پھر اسے دھولیں، اس کے بعد آپ اس کا اثر دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔

ناخنوں کی حفاظت

ناخنوں کو بھی دانتوں جتنی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور ٹوتھ پیسٹ تو دانتوں کی حفاظت کرتا ہی ہے مگر یہ ناخنوں کو بھی صحت مند بناتا ہے، اپنے ناخنوں کو روزانہ ٹوتھ پیسٹ سے دھونے کی عادت ناخنوں کی چمک اور ان کی صحت کو برقرار رکھتی ہے۔

بچوں کی بوتلوں کی صفائی

بچوں کی بوتلوں میں اکثر بساند پیدا ہوجاتی ہے جس کو دور کرنے میں عام برتن دھونے کے صابن یا کیمیکل وغیرہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہوتے، ایسے حالات میں ٹوتھ پیسٹ کا استعمال بہت مفید ثابت ہوتا ہے جو بوتلوں میں پیدا ہونے والی بو کو دور کردیتا ہے۔

میزوں سے کپوں کے گول نشانات کی صفائی

ایک اور وہ چیز جو ٹوتھ پیسٹ بہت موثر طریقے سے کرتا ہے وہ شیشے یا لکڑی کی میزوں پر ٹھنڈے یا چائے وغیرہ کے کپ رکھنے سے بن جانے والے نشانات کو مٹانا ہے، یہ نشانات خشک ہونے کے بعد صاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر ٹوتھ پیسٹ سے یہ کام بہت آسانی سے ہوجاتا ہے۔

قالین سے دھبوں کو مٹانا

قالینوں پر داغ بہت سخت اور انہیں صاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے تاہم ٹوتھ پیسٹ سے کارپٹ پر لگے کسی بھی قسم کے داغ سے نجات پانا بہت آسان ہوجاتا ہے، بس داغ پر کچھ مقدار میں ٹوتھ پیسٹ لگائیں اور پھر اسے گیلے تولیے سے صاف کریں، آپ داغ کو آسانی سے صاف ہوتے دیکھ کر حیران ہی رہ جائیں گے۔

شیشے کے دروازوں کو چمکانا

اگر آپ کے گھر میں شیشے کے دروازے لگے ہیں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر وہ دھندلے اور صاف کرنے کے بعد بھی گندے نظر آتے ہیں تاہم ٹوتھ پیسٹ کی مدد سے شیشے کو صاف کرکے آپ انہیں نئے جیسا چمکا سکتے ہیں۔